لاپتہ افراد کے اہلخانہ کا بھوک ہڑتالی کیمپ 1176ویں دن بھی جاری
بلوچ سالویشن فرنٹ کے وفد کا دورہ لاپتہ افراد کے اہلخانہ سے اظہار یکجہتی
کوئٹہ ( این این آئی ) لاپتہ افراد کے اہل خانہ کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 1176دن ہوگئے لاپتہ بلوچ اسیران شہداءکے بھوک ہڑتالی کیمپ میں اظہار یکجہتی کرنیوالوں میں بلوچ سالویشن فرنٹ کا ایک وفد لاپتہ افراد کے لواحقین سے اظہار ہمدری کی اور انہوںنے لواحقین سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ بلوچ قوم آج حالت جنگ میں ہے نازک مرحلے سے گزررہا ہے بلوچ نوجوانوں کی مسخ شدہ لاشیں گرانا ڈیتھ اسکواڈ کے ذریعے آزادی پسند دوستوں کی ٹارگٹ کلنگ جہد کاروں کے گھروں پر حملے لاپتہ افراد کی بازیابی میں بیٹھے لواحقین کو دھمکانا روز کا معمول بن چکا ہے بلوچ قوم کیلئے اتحاد ایک دوسرے کو برداشت کرنے کا وقت ہے ان حالات میں اختلافات عدم برداشت ہیرو ازم شخصیت پرست کی گنجائش نہیں آج سرفیس سیاست میں لوگوں کی اچھی ذہین سازیہ کرنے میں ناکامی کی بڑی وجہ عدم برداشت اور اتحاد کا فقدان بھی ہے آج وقت اور حالات جب بلوچ نوجوانوں کی لاشوں کو مسخ کرکے جنگلوں ویرانوں میں پھینک دیتے ہیں اور ریاستی الیکشن میں نام نہاد قوت پرستوں نے حصہ لیا اور ریاستی گماشتے الیکشن میں رکاﺅٹ بننے کی وجہ سے بلوچ آزادی پسند پارٹیوں کے جہد کاروں کو نقصان پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہے کسی نہ کسی وجہ سے بلوچ تحریک آزادی کو ایک مضبوط آزادی پسند سیاسی فرنٹ یا الائنس کی ضرورت محسوس ہورہی ہے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین قدیر بلوچ نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ آخر کب تک بلوچ ہیروز ازم یا انا پرستی کا شکار ہونگے سیاست تو تنقید واصلاح کا نام ہے اگر کوئی سیاست میں نہ تنقید کرتا ہے اور نہ تنقید کو برداشت کرتا ہے تو سیاست چھوڑ کر گھر میں بیٹھ جاتے ہیں بلوچ کا مسئلہ غلامی ہے اس سے اچھی دوستی نبھانا چاہیے ورنہ ذاتی غصہ نکالنے سے تحریک کو نقصان ہوگا دشمن فائدہ اٹھا رہا ہے
No comments:
Post a Comment