Saturday, 15 June 2013

ٹارگٹ کلنگ اور مسخ شدہ لاشوں کے خلاف ریلی

 خضدار میں پارٹی کے رہنماوں حاجی علی اکبر موسیانی ،جاوید بارانزئی کی ٹارگٹ کلنگ ،مسخ شدہ لاشیں ملنے کے واقعات اور لاپتہ افراد کی عدم بازیابی کے خلاف ڈیرہ اللہ یار میں پارٹی کے دفتر سے احتجاجی ریلی نکالی گئی

ڈیرہ اللہ یار(مقامی رپورٹر) بلوچستان نیشنل پارٹی کی مرکزی کال پر خضدار میں پارٹی کے رہنماوں حاجی علی اکبر موسیانی ،جاوید بارانزئی کی ٹارگٹ کلنگ ،مسخ شدہ لاشیں ملنے کے واقعات اور لاپتہ افراد کی عدم بازیابی کے خلاف ہفتہ کوڈیرہ اللہ یار میں پارٹی کے دفتر سے ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی جومختلف شاہراہوں سے ہوتی ہوئی پریس کلب پہنچی جہاں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے ضلعی صدر احسان احمد کھوسو،تحصیل جھٹ پٹ کے صدر جاوید دھرپالی ،عبدالحمید کھوسو ،دلشاد کھوسو نے کہا کہ بلوچستان میں تسلسل کے ساتھ بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنما ¶ں اور کارکنوں کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بناکر شہیدکیا جارہا ہے اب تک درجنوں پارٹی رہنما اور کاکن شہید ہوچکے ہیں لیکن آج تک ان واقعات میں ملوث کوئی بھی ملزم گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دنوں خضدارمیں پارٹی کے رہنماوں حاجی محمد اکبر موسیانی اور جاوید بارانزئی کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بناکر شہید گیا جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال انتہائی مخدوش ہو چکی ہے پولیس اوردیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے عوام کو جان و مال کا تحفظ فراہم کرنے میں بری طرح ناکام ہوچکے ہیں صوبے سے سینکڑوں نوجوانوں کو اٹھاکر لاپتہ کردیا گیا اور آئے روز بلوچ نوجوانوں کی مسخ شدہ لاشیں تحفے میں دی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نئی حکومت کے قیام کے ساتھ ہی مسخ شدہ لاشیں ملنے کے واقعات میں اضافہ اور سیاسی کارکنوں کی ٹارگٹ کلنگ شروع ہوگئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی سردار اختر جان مینگل کی قیادت میں بلوچستان کے ساحل ووسائل اور عوام کے حقوق کیلئے پرامن جدوجہد کر رہی ہے جس کی پاداش میں ہمیں دیوار سے لگانے کی کوششیں کی جارہی ہیں لیکن ہم حکمرانوںپر واضح کردینا چاہتے ہیں کہ ایسے اوچھے ہتھکنڈوں سے پارٹی کے قائدین اور رہنماوں کو مرعوب نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حاجی علی اکبر موسیانی اور جاوید بارانزئی کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ملزمان کو فوری طور پر گرفتارکرکے سخت سے سخت سزاد دی جائے بصورت دیگر بلوچستان نیشنل پارٹی صوبے بھر میں سخت احتجاج کرنے پر مجبور ہوگی۔

No comments:

Post a Comment