Oslo,Norway
میر کچکول علی ایڈووکیٹ کے گھر سے اسلحہ برآمد ہونے کا الزام
اوسلو(پ ر)بلوچستان کے ممتاز سیاسی رہنماءسابق صوبائی وزیر بلوچستان اسمبلی کے سابق اپوزیشن لیڈر میرکچکول علی ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ میرے گھر سے اسلحہ برآمد ہونے کی خبریں بلوچ دشمن سوچ کی عکاسی کرتی ہیں ایسے بیانات غیر مرئی قوتوں کی جانب سے مذموم سازش ہے ناروے سے اپنے جاری کردہ بیان میں انہوں نے کہا کہ تربت میں واقع ڈاکٹر کالونی میںمیرے ذاتی مکان پر چھاپہ مارا گیا ہے اوروہاں سے بھاری تعدادمیں اسلحہ برآمد ہونے جیسی خبروں کی اشاعت سے افسوس ہوا یہ غیرمرئی قوتوں کی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے میں نے انہی غیرمرئی قوتوں کے رویئے سے تنگ آکر جلاوطنی کی زندگی اختیار کی اس جلاوطنی کے ذمہ داریہی قوتیں ہیں کیونکہ میرااندازہ یہی تھا کہ یہ لوگ ایسی ہی گھناﺅنی حرکتیں کریں گے اور مجھے پھنسانے کی کوشش کریں گے میں ایک معزز شہری ہوں بلوچستان اسمبلی کا دو مرتبہ رکن منتخب ہوا ہوں مجھے کسی قسم کی دہشت گردی میں ملوث کرنا زیادتی کے سوا کچھ نہیںمیں نے اپنا مکان گزشتہ چار سال سے محکمہ تعلیم کو کرائے پر دیا ہوا ہے میرا گھر بے شک میری ملکیت ہے مگر گھر نہ میرے استعمال میں ہے نہ میرے خاندان کے استعمال میں ہے اور نہ ہی مجھے یا میرے خاندان کا کسی دہشت گردی سے تعلق ہے اس چھاپے اور اسلحہ کی برآمدگی کو اپنے خلاف سازش قرار دیتے ہوئے کہا کہ غیر غیرمرئی قوتیں مجھے سیاسی جدوجہد سے الگ تھلگ کرناچاہتی ہیں اورمیرے گھر کو سیل کرناچاہتی ہیں جو انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلوچستان کے جائز آئینی اورقانونی حقوق کی جدوجہد سے دستبردار نہیں ہوںیہ میں نے اپنا مکان2010ءمیں پانچ سالہ معاہدے کے تحت میڈم غزالہ کے حوالے کیا ہے اس وقت اس مکان میں بلوچستان کالج کے نام ایک تعلیمی ادارہ کام کررہا ہے۔
No comments:
Post a Comment