Peoples Party
پیپلزپارٹی کی حکومت میں شمولیت کی ”کوری“ دعوت کا جواب متحدہ نے کورے انداز میں دیا ،پیپلزپارٹی کے نذرانہ پیش نہ کرنے کی وجہ سے ایم کیو ایم کی طرف سے بڑا استقبال نظر نہیں آیا،” بڑے خادم“ کی تعریف سے قومی اسمبلی میں ایک مخدوم ڈپٹی پارلیمانی لیڈر بننے سے محروم رہا ،بلوچستان پر اے پی سی کی بجائے قومی اور عالمی سطح پر پالیسیاں تبدیل کرنا ہونگی
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے مرکزی راہنما حافظ حسین احمد کی صحافیوں سے گفتگو
اسلام آباد/اوکاڑہ (مقامی رپورٹر )جمعیت علمائے اسلام (ف) کے مرکزی راہنما حافظ حسین احمد نے کہا ہے کہ پہلے پیپلزپارٹی وفاقی حکومت میں ہوتے ہوئے ”کرنٹ آمدن“ سے ایم کیو ایم کو ”نذرانہ “دیکر حکومت میں شمولیت کی دعوت دیتی تھی جسے فوری طور پر قبول کر لیا جا تا تھا، اب ”ڈیپازٹ“ سے نذرانہ دینا ممکن نہیں اسی لئے حکومت میں شمولیت کی ”کوری“ دعوت کا جواب بھی کورے انداز میں دیا گیا،پیپلزپارٹی کی طرف سے نذرانہ نہ ہونے کی وجہ سے ایم کیو ایم کا استقبال بھی نظر نہیں آیا۔وہ پیر کو اوکاڑہ پریس کلب کے ارکان سے ٹیلی فونک گفتگو کررہے تھے ۔ حافظ حسین احمد نے کہا کہ ایم کیو ایم نے پیپلزپارٹی سے سوچنے کیلئے وقت مانگ لیا ہے ۔پیپلزپارٹی کو بھی سوچنا چاہیے کہ کیا وہ ایم کیو ایم کو حکومت میں افورڈ کر سکتے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوںنے کہا کہ” بڑے خادم“ کی تعریف نے قومی اسمبلی کے ایک مخدوم کو ڈپٹی پارلیمانی لیڈر بننے سے محروم کر دیا۔اب مخدوم ایک پارٹی میں دو ہیں عہدہ ایک ہے دونوں میں انصاف تحریک انصاف کیلئے امتحان بھی بن سکتا ہے ۔ایک اور سوال پر حافظ حسین احمد نے کہا کہ ملی یکجہتی کونسل کو فعال بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ اب یہ ذمہ دار ی قائم مقام صدر علامہ ساجد نقوی اور کونسل میں شامل 27 جماعتوں کی ہے کہ وہ مستقل صدر اور جنرل سیکرٹری کے اجلاس کیلئے کب اجلاس بلاتے ہیں۔ کیونکہ مستقل صدر قاضی حسین احمد اللہ کو پیارے ہوگئے اور میں نے بطور جنرل سیکرٹری استعفیٰ دے دیا۔ کوئٹہ کے حالات پر اے پی سی بلائے جانے کی تجویز پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوںنے نے کہا کہ اے پی سی دوائی کی ایک ایسی گولی ہے جو سر درد کیلئے تو مناسب ہو سکتی ہے دہشتگردی تو کینسر سے زیادہ خطرناک صورتحال اختیار کر چکی ہے ۔ لہٰذا اس کیلئے اے پی سی کی بجائے قومی اور عالمی سطح پر پالیسیاں تبدیل کرنا ہونگی۔یہی دہشتگردی کا مستقل حل ہے ۔
No comments:
Post a Comment