امن و امان کے قیام اور قومی ایجنڈے کی تشکیل کےلئے وزیراعظم جلد تمام سیاسی جماعتوں کی قیادت کو بات چیت کی دعوت دیں گے‘ 20 جون کو سکیورٹی سے متعلقہ تمام اداروں کا اجلاس ہوگا‘ 21جون کو نئی سکیورٹی پالیسی کا اعلان کیا جائے گا‘ سانحہ زیارت اور کوئٹہ کی تحقیقات کیلئے مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دےدی ہے‘ رپورٹ ایوان میں پیش کی جائے گی‘ قائد اعظم کی رہائش گاہ تین سے چار ماہ کے اندر دوبارہ تعمیر کردی جائے گی
وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کا دورہ کوئٹہ سے واپسی پر زیارت اور کوئٹہ سانحہ بارے قومی اسمبلی میں بیان
تمام اپوزیشن جماعتوں کے قائدین کی حکومت کو امن و امان اور سکیورٹی ایشوز پر اپنے مکمل تعاون کی یقین دہانی
اسلام آباد (مقامی رپورٹر) قومی اسمبلی کو وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے بتایا ہے کہ ملک میں امن و امان کے قیام اور قومی ایجنڈے کی تشکیل کے لئے وزیراعظم نواز شریف جلد ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کی قیادت کو بات چیت کی دعوت دیں گے‘ 20 جون کو سکیورٹی سے متعلقہ تمام سکیورٹی اور حساس اداروں کا اجلاس طلب کیا ہے‘ 21جون کو نئی سکیورٹی پالیسی کا اعلان کیا جائے گا‘ زیارت میں قائد اعظم کی رہائش گاہ اور بولان میڈیکل کمپلیکس کے سانحہ کی تحقیقات کیلئے تمام اداروں کے حکام پر مشتمل مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی ہے‘ رپورٹ ایوان میں پیش کی جائے گی‘ قائد اعظم کی رہائش گاہ تین سے چار ماہ کے اندر دوبارہ تعمیر کردی جائے گی۔ وزیر داخلہ دورہ کوئٹہ سے واپسی پر پیر کو زیارت اور کوئٹہ سانحہ بارے ایوان میں بیان دے رہے تھے۔ اس موقع پر تمام اپوزیشن جماعتوں کے قائدین نے حکومت کو امن و امان کے قیام اور سکیورٹی ایشوز پر اپنے تمام تر تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ ‘ تحریک انصاف کے شاہ محمود قریشی‘ عوامی مسلم لیگ کے شیخ رشید احمد‘ جماعت اسلامی کے طارق اﷲ‘ جے یو آئی (ف) کے اکرم درانی اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے محمود خان اچکزئی نے وزیر داخلہ کو امن و امان کے قیام کے لئے وزیر داخلہ کو مکمل تعاون کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ یہ کسی ایک جماعت کا نہیں قومی ایشو ہے اور مطالبہ کیا کہ زیارت اور کوئٹہ سانحہ کے ذمہ داروں کو قرار واقعی سزا دلائی جائے۔ زیارت کا واقعہ قابل افسوس ہے یہ پرامن علاقہ رہا ہے یہاں جرائم کا ریٹ نہ ہونے کے برابر ہے وہاں کے لوگ بڑے پرامن ہیں یہ پشتون علاقہ ہے 2008ء سے قبل قائد اعظم کی رہائش گاہ کی ذمہ داری گورنر کے پاس تھی پھر اس کی ذمہ داری بلوچستان کے آرکیالوجی کے شعبہ کو سونپ دی گئی رہائش گاہ پر پرائیویٹ سکیورٹی کے نام پر صرف چوکیدار تعینات تھے سانحہ کی رات چار چوکیدار تعینات تھے اور موقع پر موجود ہونے کی بجائے اپنے کوارٹر میں تھے ہم نے جوائنٹ ایویسٹی گیشن کا حکم دیا ہے رات کے گیارہ بجے کے قریب چوکیداروں کے مطابق شور سنا تو دیکھا کہ چار آدمی دیوار پھلانگ کر بھاگ رہے تھے دھماکے کے بعد جب پولیس والے پہنچے تو ایک پولیس والے کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا گیا ہماری معلومات کے مطابق عسکریت پسند تقریباً دو گھنٹے وہاں موجود رہے لیکن چوکیداروں نے ان کے خلاف کارروائی نہ کی میرے دورے سے قبل ان چوکیداروں کو تفتیش کیلئے لے جایا جاچکا تھا۔ انہوں نے کہا کہ چوکیداروں نے پولیس کو بروقت اطلاع نہ دی نہ ہی قریب تعینات چیک پوسٹ پر اطلاع پہنچائی ڈی سی اوز اور دیگر اہلکاروں کے بیانات میں بھی تضادات ہیں ڈی سی اوز نے کہا کہ دہشت گرد موٹر سائیکل پر آئے لیکن اطلاعات ہیں کہ دیگر گاڑیاں بھی استعمال ہوئیں انہوں نے کہا کہ ہم ایوان سے کچھ چھپائیں گے نہیں بلکہ جی آئی ٹی ایوان میں پیش کریں گے میرا سوال یہ ہے کہس انحہ کے بعد واپسی کے راستے بند کرکے عسکریت پسندوں کو پکڑنے کی کوشش کیوں نہ کی گئی انہوں نے کہا کہ انہوں نے بولان میڈیکل کمپلیکس کا بھی دورہ کیا سرکاری اطلاعات کے مطابق وہاں چار دہشت گردوں نے حملہ کیا طالبات کی وین پر حملے کے حوالے سے متضاد اطلاعات ہیں صوبائی انتظامیہ کے مطابق یہ خودکش حملہ نہ تھا جبکہ آزاد ذرائع کے مطابق یہ خودکش ہملہ تھا اور حملہ آور ایک خاتون تھی انہوں نے کہا کہ حملہ میں 14 بچیاں شہید ہوئیں اور 16 زخمی ہوئیں پھر ہسپتال میں دہشت گردوں نے حملہ کیا اور ڈی سی سمیت متعدد افراد جاں بحق ہوئے یہ ڈی او غریب گھرانے کا فرد تھا اور انتہائی فرض شناس افسر تھا جب ہسپتال پر حملہ ہوا تو اسی ڈی سی او نے آگے بڑھ کر خود حملہ روکنے کی قیادت کی اور شہید ہوا اس حملہ میں ایف سی کے چار اہلکار ‘ چار نرسیں اور ایک ڈاکٹر بھی شہید ہوا۔ شہداءکی کل تعداد 24 ہے جبکہ 34زخمی ہیں رپورٹ کے مطابق ایک عسکریت پسند پکڑا گیا جبکہ چار ہلاک ہوئے لیکن اس حوالے سے مجھے شکوک و شبہات ہیں میں مزید تصدیق کررہا ہوں انہوں نے کہا کہ میرا سوال ہے کہ کیا ایک شہر کو اس سے زیادہ سکیورٹی کے گھیرے میں دیا جاسکتا ہے جتنا کوئٹہ ہے پورا شہر سکیورٹی اور خفیہ اداروں نے گھیر رکھا ہے لیکن اس کے باوجود ہر جگہ جب دہشت گرد چاہتے ہیں حملہ کرتے ہیں اور کامیاب رہتے ہین ہماری کوشش ہوگی کہ ہم ایوان کو سب کچھ ب تائیں امن گولہ بارود سے نہیں بات چیت سے آسکتا ہے ہم امن قائم کرنے کیلئے ہر اقدام کریں گے اپنی تمام طاقت بروئے کار لائیں گے ہم عوام کے جان و مال عزت و آبرو کی حفاظت کی مکمل کوشش کرینگے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وزیر داخلہ کے مطابق بلوچستان کی صورتحال نازک ہے میری گزارش ہوگی کہ بلوچستان کے حالات کو سدھارنے میں تحریک انصاف حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کرے گی کیونکہ یہ بلوچستان اور پاکستان کی ترقی کیلئے ضروری ہے وزیر داخلہ یقین دہانی کرائیں کہ دونوں واقعات کے ذمہ داروں کو قرار واقعی سزا سنائیں۔ اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے کاہ کہ ہم بلوچستان کے حالات سمیت سکیورٹی ایشوز پر سیاست نہیں کریں گے سابق دور میں بھی کوششیں ہوئیں موجودہ حکومت بھی امن کے لئے کوشاں ہے میں اپوزیشن کی طرف سے حکومت کو تعاون کا یقین دلاتا ہوں تمام معلومات ایوان سے شیئر کی جائیں امن و امان کی ناکامی کی تمام ذمہ داری ایجنسیوں پر عائد ہوتی ہے امید ہے وزیر داخلہ تمام حقائق سے ایوان کو آگاہ کریں گے۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پارلیمنٹ اعلان کرے کہ ملک کو امن کا گہوارہ بنائیں گے چاہے جتنی قربانی پیش کرنی پڑے اگر ہم ایسا نہیں کریں گے تو پھر ہمیں اس ایوان میں بیٹھنے کی اجازت نہ ہوگی۔ جماعت اسلامی کے طارق اﷲ نے چوہدری نثار کی جانب سے کوئٹہ کے بروقت دورے پر ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ڈرون حملوں اور دہشت گردی کے حوالے سے پارلیمنٹ کی قراردادوں پر عمل کرنا چاہیے۔ شیخ رشید احمد نے کہا کہ وزیر داخلہ کی کوشش سنجیدہ کوشش ہے حکومت کو جنگ یا مذاکرات میں سے ایک فیصلہ کرنا ہے پنڈی اسلام آباد سے بارہ لوگ اغواءبرائے تاوان کیلئے افغانستان لے جائے گئے ہیں دہشت گردی کے حوالے سے قانون سازی کی ضرورت ہوگی امریکی فوجیوں کی واپسی سے قبل حالات اہم ہیں چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ وہ کسی کی ناراضگی سے نہیں صرف ایوان کی ناراضگی سے ڈرتے ہیں۔20 جون کو تمام سول اور آرمڈ فورسز کی ملاقات ہونی ہے وزیراعظم بھی جلد تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین سے ملاقات کریں گے ابھی طے نہیں ہوا کہ یہ ملاقات کل جماعتی کانفرنس کی صورت ہو یا پارلیمانی لیڈرز کے ساتھ ملاقات ہوگی انہوں نے کہا کہ 21 جون کو نئی سکیورٹی پالیسی اعلان کی جائے گی پھر اسے کابینہ سے منظوری کیلئے پیش کرنے کے بعد ایوان میں بھی پیش کیا جائے گا انہوں نے کہا کہ ڈرون حملوں اور سکیورٹی ایشوز بارے پارلیمنٹ کی تمام قراردادوں پر عمل کیا جائے گا وہ حکومت ہی کیا جو پارلیمنٹ کی قراردادوں پر عمل نہ کرسکے قائد اعظم کی رہائش گاہ چار ماہ کے اندر تیار کرلی جائے گی تمام قومی یاد گاروں کی حفاظت کیلئے حکمت عملی تیار کرلی جائے گی انہوں نے کہا کہ سکیورٹی ایشوز پر کوئی سیاست نہیں کریں گے سکیورٹی پر سیاست گناہ سمجھتے ہیں انہوں نے کہا کہ نئی سکیورٹی پالیسی کے تحت امن و امان قائم کرنے کیلئے صوبائی حکومتوں اور مرکزی اداروں کے درمیان مکمل ہم آہنگی قائم کی جائے گی۔ جے یو آئی (ف) کے رکن اسمبلی اور سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اکرم خان درانی نے بھی چوہدری نثار کے اقدامات کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ حکومت امن و امان کا مسئلہ بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرے طاقت کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کی کوشش نہ کرے امن و امان کے مسئلہ پر تمام جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس بلائے۔
No comments:
Post a Comment