Tuesday, 18 June 2013

Balochistan Crisis

بلوچستان کا مسئلہ گھمبیر صورتحال ا ختیار کرچکا ہے،خورشید شاہ

 قیام امن کیلئے اے پی سی سیمت گولی کا جواب گولی سے دیاجائے

 لاپتہ افراد کو بازیاب کرانے کے حوالے سے ہماری حکومت ناکام رہی ، صحافیوں سے گفتگو

 اسلام آباد(مقامی رپورٹر) قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ بلوچستان میں جو لوگ دہشتگردی میں ملوث ہیں ان کے نیٹ ورک کو اسٹیبلشمنٹ کیوں نہیں روک سکتی ، حکومت بلوچستان میں امن وامان قائم کرنے کے لیے آل پارٹیز کانفرنس سمیت جو بھی اقدامات اٹھائے گی ہم اس کی حمایت کرینگے ، بلوچستان میں قوم پرستوں کی حکومت ہے اب وہ بلوچستان کے مسائل حل کریں ، پیپلز پارٹی کی حکومت کے پاس مکمل مینڈیٹ نہیں تھا ، بلوچستان کا مسئلہ گھمبیر صورتحال ا ختیار کرچکا ہے اسے حل کرنے کیلئے اسٹیبلشمنٹ نے سنجیدہ کوششیں نہیں کی تو بہت بڑا نقصان ہوگا ، بلوچستان کے 90فیصد لوگ امن چاہتے ہیں پانچ فیصد لوگ تخریبی کارروائیاں کرتے ہیں ، گولی کا جواب گولی سے دیاجائے ، نواب اکبر بگٹی قتل کیس میں سپریم کورٹ ازخود نوٹس لے ، آرٹیکل 6 پر عملدرآمد کرنے میں رکاوٹ نہیں بلکہ یہ صرف انڈر سٹینڈنگ ہے ۔ منگل کو پارلیمنٹ ہاﺅس میں قائد حزب اختلاف کے چیمبرمیں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکہ دہشتگردوں کو لاکھوں میل دور بیٹھ کر بھی ان پر نظر رکھتا ہے مگر ہمارے قانون نافذ کرنے والے ادارے تخریب کاروں کونہیں پکڑ سکتے انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی صورتحال گھمبیر صورتحال اختیار کرچکی ہے اسٹیبلشمنٹ نے اسے حل کرنے میں سنجیدہ کوشش نہیں کی تو ملک کا نقصان ہوگا اب تو صوبے کے حکمران قوم پرست رہنما ہیں انہیں تمام فریقوں کے ساتھ مل بیٹھ کر بات کرنا ہوگی انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان اشاروں میں کہا کہ تخریب کاروں کو روکنے میں ہمارے ادارے ناکام نظر آئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی حکومت صوبے کے حالات قابو کرنے میں ناکام ہوئی تو پھر حالات کسی کے قابو میں نہیں رہیں گے انہوں نے کہا کہ سیاستدانوں کے ٹیلی فون تو ریکارڈ ہوتے ہیں کیا تخریب کارو ں کے فون ریکارڈ نہیں ہوتے کیونکہ جن دوسرے ملکوں سے تخریب کاروں کو فون آتے ہیں انہیں ریکارڈ کرکے پھر حکومت ان ممالک سے بات چیت کرے ۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کو عوام کی جانب سے اکثریت ملی ہے ااسے ملکی مسائل حل کرنے چاہیے پیپلز پارٹی نے اکثریت نہ ملنے کے باوجود تاریخی کام کئے ہیں 90فیصد بلوچی امن کے حامی ہیں پانچ فیصد لوگ تخریب کاری کررہے ہیں اب گولی کا جواب گولی سے دینا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں لاپتہ افراد کو بازیاب کرانے کے حوالے سے ہماری حکومت ناکام رہی ہے اور اپنی غلطیوں کی وجہ سے اپوزیشن میں بیٹھے ہوئے ہیں انہوں نے کہا کہ ملک میں آزاد عدلیہ ہے وہ نواب ا کبر بگٹی قتل کیس میں ازخود نوٹس لے انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 6 کے تحت سابق صدر پرویز مشرف کیخلاف کارروائی کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے بلکہ انڈر سٹینڈنگ سے کارروائی نہیں ہورہی ہے انہوں نے کہا کہ 1999ء کے فوجی اقدامات کرنے سے بہت سے لوگ ملوث ہیں جس کی طرف کوئی جاتا ہی نہیں ہے ۔

No comments:

Post a Comment