Taliban And America
قطر،طالبان دفتر کا قیام،افغانستان کو ملنے والی امریکی امداد معطل
طالبان کیساتھ امن مذاکرات کے آغاز کیلئے جلد اپنے نمائندے قطر بھیج ئینگے،حامد کرزئی
طالبان کیساتھ کسی قسم کا معاہدہ 2017ءتک بھی شاید ممکن نہیں،ذرائع
کابل/اسلام آباد(مقامی رپورٹر)افغانستان میں امن عمل کو تقویت دینے کے لیے آج سے عرب ریاست قطر میں طالبان کا ایک نمائندہ دفتر قائم ہو رہا ہے۔ اس حوالے سے بات چیت سن 2011 میں شروع ہوئی تھی۔ قطر میں قائم الجزیرہ ٹیلی وڑن چینل نے اپنے ذرائع کے حوالے سے اس خبر کی تصدیق کی ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق کابل میں ان کے نمائندے نے طالبان کے ایک نمائندے سے رابطہ کیا مگر ا ±س نے تازہ پیشرفت کے حوالے سے لاعلمی ظاہر کی۔ افغان حکومتی ذرائع نے اس خبر کی نا تردید کی ہے اور نہ ہی تائید کی ہے۔ افغان صدر حامد کرزئی رواں برس اپریل میں کہہ چکے ہیں کہ قطر میں طالبان کا نمائندہ دفتر امن عمل کے سلسلے میں مددگار ثابت ہوگا۔ انہوں نے یہ بات بھی عرب ٹیلی وڑن چینل الجزیرہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی تھی۔ افغان ذرائع ابلاغ نے امن شوریٰ کے ترجمان مولی شہزادہ شاہد کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ طالبان کے امن دفتر کا معاملہ حتمی مرحلے میں ہے۔دریںا ثناءامریکی سینٹ کی کمیٹی برائے خارجہ امور نے افغانستان کو ملنے والی 75 ملین ڈالر کی امداد روک دی ہے۔ کمیٹی کے ایک سینیئر ری پبلکن رکن بوب کورکر کے بقول جب تک اوباما انتظامیہ افغان صدر حامد کرزئی کو دی گئی نقد رقوم کی تفصیلات نہیں فراہم کرتی تب تکی یہ فنڈ جاری نہیں کیے جائیں گے۔ امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق خفیہ ایجنسی سی آئی اے نے تھیلوں اور بیگوں میں بھرے کروڑوں ڈالرز صدر کرزئی کے دفتر کے ذریعے استعمال کیے۔ رپورٹ کے مطابق یہ رقم سی آئی اے کے کام آنے کے بجائے جنگ زدہ افغانستان میں بدعنوانی کا باعث بنی اور جنگی سرداروں کے ہاتھ لگ گئی، جس سے امریکا کی افغانستان نے انخلا کی حکمت عملی کو نقصان ہوا۔ سینیٹر بورب کورکر کے بقول وہ اوباما انتظامیہ کو اس حوالے سے تین خطوط لکھ چکے ہیں مگر ان کا کوئی جواب نہیں آیا۔دریں اثناءافغان صدر حامد کرزئی نے کہا ہے کہ افغانستان طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کے آغاز کیلےءجلد اپنے نمائندے قطر بھیجے گا ۔ غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق کابل میں غیر ملکی فوج سے سکیورٹی کنٹرول افغان فورسز کے حوالے کرنے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر حامد کرزئی نے کہا کہ افغان اعلیٰ سطحی امن کونسل کے نمائندے طالبان سے مذاکرات کے آغاز کیلئے جلد قطر کا دورہ کرینگے ۔علاوہ ازیں قطر میں طالبان کے دفتر کھولنے میں ابھی وقت لگے گا کیونکہ ابھی تک امریکہ سے اس حوالے سے ضمانتوں کو حتمی شکل دینے پر بات چیت جاری ہے، یہ بات افغان سفارتی اہلکاروں نے بتائی۔ادھر الجزیرہ ٹی وی چینل نے خبر دی ہے کہ طالبان اسی ہفتے یا شاید منگل کو قطر میں اپنا سیاسی دفتر کھول دیں گے۔ تاہم اس خبر کے بارے میں افغان حکومت نے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا ہے اور فی الحال خاموش ہے۔دوسری جانب اسلام آباد میں افغان سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ دفتر کھولنے میں ابھی مزید وقت لگ سکتا ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق افغان حکومت نے امریکہ سے اس دفتر کی بابت ضمانت مانگی تھی جس کے مسودے پر بات ہو رہی ہے۔سفارتی ذرائع کے مطابق اس بات کی ضمانت حاصل کی جا رہی ہے کہ طالبان یہ دفتر صرف سیاسی مقاصد یعنی ہائی پیس کونسل سے مذاکرات کے لیے استعمال کریں گے۔ اعلیٰ امن کونسل افغان حکومت کی جانب سے حزب اختلاف سے مذاکرات کے لیے قائم کی گئی تھی۔تاہم انہوں نے واضح کیا کہ دفتر کا ک ±ھلنا مذاکرات کے آغاز کی جانب صرف ایک قدم ہوگا مذاکرات کی شروعات نہیں۔افغان سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ’طالبان کے ساتھ کسی قسم کا معاہدہ ابھی کافی دور ہے۔ یہ سال 2017 تک بھی شاید ممکن نہ ہو۔ لیکن ہم پ ±رامید ہیں کہ اس سلسلے کے آغاز سے حالات میں بہتری آسکتی ہے اور آئندہ برس کے عام انتخابات کے قدرے پرامن انقاد میں مدد مل سکتی ہے۔اس عمل میں پاکستان کے کردار کے بارے میں افغان حکام کا کہنا ہے کہ قطر مذاکرات میں پاکستان کا براہ راست کوئی کردار نہیں تھالیکن اگر دفتر کھولنے کی یہ پیش رفت مثبت انداز میں ہو رہی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ پاکستان بھی اس کی حمایت کر رہا ہے۔افغان صدر حامد کرزئی نے اس سال مارچ میں قطر کا دورہ کیا تھا جس میں انہوں نے وہاں کے حکام سے طالبان دفتر کے بارے میں بات چیت کی تھی۔ اس سے قبل افغان صدر ملک سے باہر کسی دفتر کے مخالف رہے تھے لیکن کہا جاتا ہے کہ امریکہ نے آئندہ برس افغانستان سے انخلاءکے تناظر میں افغان حکام کو اس پر رضا مند کیا ہے۔افغانستان اور پاکستان نے قطر کے علاوہ سعودی عرب میں بھی طالبان کی جانب سے دفتر کھولنے کی ایک مشترکہ کوشش کا آغاز کیا تھا لیکن اب سفارتی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ سعودی عدم دلچسپی کے باعث اس بابت کوئی پیش رفت اب تک نہیں ہوسکی ہے۔ دونوں ممالک کا خیال تھا کہ سعودی عرب کا طالبان پر قطر سے زیادہ اثر و رسوخ ہوگا لہذا وہ انہیں کسی بھی بات پر رضامند کرنے میں زیادہ مفید ہوں گے لیکن یہ منصوبہ کامیاب ثابت نہیں ہوا۔
No comments:
Post a Comment