Sales Taxe Case
اشیائے خوردنی اور ادویات پر سیلز ٹیکس کے اضافے کا اطلاق نہیں ہوگا،سپریم کورٹ میں اٹارنی جنرل نے حکومتی ہدایت نامہ پیش کر دیا
ملک کسی غلط فیصلے کا متحمل نہیں ہوسکتا‘ حکومت اگر اعلامئے سے سیلز ٹیکس بڑھا دے گی تو پھر آئین کی کیا ضرورت رہ جائے گی‘چیف جسٹس
اسلام آباد، پٹرولیم مصنوعات پر سیلز ٹیکس کے حوالے سے اٹارنی جنرل نے حکومتی ہدایت نامہ عدالت میں پیش کردیا جس میں بتایا گیا ہے کہ اشیائے خوردنی اور ادویات پر سیلز ٹیکس کے اضافے کا اطلاق نہیں ہوگا‘ وزارت خزانہ نے ایف بی آر کو وضاحت جاری کرنے کی ہدایت کردی ہے‘ تمام ٹیکس انسپکٹرز کو سخت مانیٹرنگ کی ہدایت بھی کی گئی ہے‘ اشیائے خوردنی میں پھل‘ گوشت‘ سبزیاں‘ چپاتی‘ بیکری کا سامان‘ انڈہ‘ دودھ‘ دالیں اور دیگر سبزیاں شامل ہیں جبکہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ریمارکس دئیے ہیں کہ ملکی معاملات آئین و قانون کے تحت چلنے چاہئیں‘ اب ملک کسی غلط فیصلے کا متحمل نہیں ہوسکتا‘ حکومت اگر اعلامئے سے سیلز ٹیکس بڑھا دے گی تو پھر آئین کی کیا ضرورت رہ جائے گی‘ سی این جی ملکی دولت ہونے کے باوجود مہنگی فروخت کی جارہی ہے‘ ججز اور پارلیمنٹ دونوں نے مل کر عوام کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے‘ ہمیں کبھی تو اپنا آئین خود بہتر کرنا ہے ہم کب تک انگریزوں کے بنائے ہوئے قانون پر چلتے رہیں گے‘ عوام اپنے منتخب نمائندوں سے پوچھتے ہیں کہ جس کی اجازت آئین نہیں دیتا وہ سیلز ٹیکس حکومت کیوں بڑھا رہی ہے اس طرح کے اقدامات کی اجازت نہیں دے سکتے‘ حکومت کو فنانس بل اور آرڈیننس سے ہٹ کر آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سیلز ٹیکس بڑھانے کا اختیار نہیں ہے۔ انہوں نے یہ ریمارکس گذشتہ روز دئیے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہ میںتین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ اس موقع پر اٹارنی جنرل منیر اے ملک نے کہا ہے کہ قیام پاکستان سے پہلے کا 1931ءکا قانون چلا آرہا ہے جس میں دو مرتبہ ترمیم ہوچکی ہے اس قانون کے تحت حکومت کو اختیار ہے کہ کوئی بھی ٹیکس لگائے یا اس میں کمی بیشی کرسکے۔ اس قانون کے تحت ٹیکس کا نفاذ فنانس بل کی منظوری سے نہیں بلکہ فوری عمل میں آجاتا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کیا یہ قانون آئین میں دئیے گئے بنیادی حقوق سے متصادم نہیں۔ آئین کے آرٹیکل 3 کے تحت شہریوں کی توقعات نہیں ہوسکتیں۔ جب اسمبلیاں اور آئین موجود ہیں تو پھر ایسے قانون کی کیوں وضاحت نہیں کی جارہی۔ اب ہم 1931ءمیں نہیں رہ رہے۔ آئین میں 18 ترامیم ہوچکی ہیں۔ جی ایس ٹی بڑھانے سے مہنگائی کی نئی لہر آئی ہے۔ اربوں روپے صارفین کی جیبوں سے نکل رہے ہیں۔ اب انگریزوں کا نوآبادیاتی نظام موجود نہیں۔ ہمارا اپنا آزاد معاشرہ ہے اب انگریز دور کے قوانین کی بناءپر عوام پر کیسے بوجھ ڈال سکتے ہیں۔ اے جی نے کہاکہ ملک کو تین ہائیکورٹس نے 1931ءکے قانون کاجائزہ لیا ہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ یہ ٹیکس پٹرولیم مصنوعات پر ہی صرف لیا جائے گا۔ پرسوں دو فیصد جی ایس ٹی لگایا اور پھر اسی روز وزیر خزانہ نے سیکرٹری خزانہ سے واپس لینے کو کہا۔ اگر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں روزانہ بڑھائی جاتی ہیں تو اس کا ڈیکلریشن کہاں جاری ہوا اور اس جی ایس ٹی کے نفاذ کیلئے مشینری کہاں ہے۔ سی این جی پر 26 فیصد ٹیکس اوگرا نے لے لیا ہے اس کے رولز کہاںہیں۔ یہ اوگرا وکیل سے پوچھیں گے اس پراے جی نے کہاکہ اس کا نوٹیفکیشن ضروری نہیں اعلامیہ ہی کافی ہے اس حوالے سے تحریری فیصلے موجود ہیں۔ چیف جسٹس نے کہاکہ کیا یہ ہمیشہ کا معمول ہے اور کیا یہ ٹیکس ہے جو حکومت کی جیبوں میں جائے گا۔ اب بزنس مین کو کچھ نہیں ملے گا۔ اے جی نے کہا کہ یہ 1967ءسے رائج ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آئین اس بات کی اجازت دیتا ہے اس پر اے جی نے کہا کہ جی ہاں اس حوالے سے عارضی قانون سازی بھی کی جاسکتی ہے اور کوئی طریقہ نہیں۔ چیف جسٹس نے کہاکہ یہ کام عوام کیلئے ہونا چاہئے سرمایہ داروں کیلئے نہیں۔ اے جی نے کہا کہ اس کا مقصد مارکیٹس کو تباہی سے بچانا ہے اور یہ کوئی نئی بات نہیں ہے کہ جس پر اتنا بڑا مسئلہ کھڑا کردیا گیا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ بینچ اس بات کو سمجھنے سے قاصر ہے کہ صرف اعلامئے سے ٹیکس کا نفاذ کیسے ہوسکتا ہے جبکہ ابھی فنانس بل کی منظوری ہونا بھی باقی ہے۔ عارضی قانون سازی کیلئے صدارتی آرڈیننس جاری ہوسکتا ہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ صارفین چیزیں کیوں خریدیں۔ میڈیا نے بتایا ہے کہ جی ایس ٹی کی وجہ سے کئی اشیاءکی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ ان رجسٹرڈ افراد بھی اس ٹیکس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ یہ آئین کے تحت چلنے والی حکومت ہے اس طرح کے ٹیکس کے نفاذ کی کس طرح اجازت دے سکتے ہیں۔ ایف بی آر سے پوچھتے ہیں کہ کتنے ادارے اس ٹیکس سے ماوراءہیں۔ کھانے کی چیزوں پر بھی یہ ٹیکس لاگو کردیا گیا ہے۔ جان بچانے والی ادویات پر بھی ٹیکس لاگو ہوگیا ہے عوام کہاں جائیں۔ عام آدمی تو ٹیکس دے رہا ہے جبکہ نان رجسٹرڈ پٹرول پمپ ٹیکس وصول کررہے ہیں وہ تو سب کچھ اپنی جیبوں میں ڈال رہے ہیں کس کو چھوڑ رہے ہیں اور کس کو نہیں۔ 45 فیصد افراد آپ کو ٹیکس نہیں دیں گے۔ آپ نے تو عام لوگوں کا نقصان کیا ہے۔ 90 فیصد پٹرول پمپ نان رجسٹرڈ ہیں۔ عدالت کو بتایا گیا کہ جانوروں‘ کھانے کی چیزوں‘ بیجوں‘ چینی اور چینی سے بنی ہوئی اشیاءسمیت کئی اشیاءپر یہ ٹیکس لاگو ہوتا ہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ اگر آپ مارکیٹ چلے جائیں تو ہر ایک شے کی قیمت بڑھ چکی ہے اور جو قیمت بڑھ جاتی ہے اس میں اضافہ واپس نہیں لیا جاتا۔ آپ کو اعلامئے میں واضح کرنا چاہئے تھا۔ ادویات پر نہیں ہے تو اس کا بتایا جائے۔ ہر سال ایک اعلامیہ جاری کرکے عوام کی جیبیں خالی کردیتے ہیں جو دکاندار اور پٹرول پمپ رجسٹرڈ نہیں ہیں تو وہ کیسے ٹیکس دیں گے وہ تو سب کچھ اپنی جیبوں میں ہی ڈالیں گے۔ چیف سیلز ٹیکس آفیسر ایف بی آر نے بتایا کہ یہ نیا ٹیکس‘ ٹیکس ایبل اشیاءپر ہی لاگو ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نوٹیفکیشن جاری کردیتے جس سے اشیاءکی قیمتیں نہ بڑھتیں۔ ونڈ فال پرافٹ والا موج کررہا ہے۔ آپ نے مارکیٹ کا سروے کرایا کہ عوام پر کتنا بوجھ پڑا ہے۔ جسٹس اعجاز نے کہا کہ جب بھی بجٹ آتا ہے مہنگائی بڑھ جاتی ہے۔ ہر شخص اپنی مرضی کی قیمتیں وصول کرتا ہے اور ان کی روک تھام کیلئے کوئی نظام موجود نہیں ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ لکھ کردیں کہ غیر مستند دکاندار اور بزنس مین یہ ٹیکس وصول نہیں کررہے ¶ آپ جائیں اور مارکیٹ سے سروے کرکے لائیں۔ آپ نے جو نوٹیفکیشن جاری کیا ہے وہ لے کر آئیں اور دکھائیں۔ تمام نوٹیفکیشنز منگوائیں۔ یہ کوئی آسان کیس نہیںہے اگر آپ اس طرح سے پیسے لینا چاہیں اگر آئین اجازت دیتا ہے تو آرٹیکل 3 اس کے راستے میں رکاوٹ بنے گا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ٹیکس کا نفاذ قانون سازی یا ایکٹ آف پارلیمنٹ کے بغیر نہیں کیا جاسکتا اس کیلئے آرڈیننس بھی جاری کیا جاسکتا ہے۔ بجٹ بھی قانون سازی ہے۔ عارضی نفاذ بھی قانون سازی سے ہی ممکن ہے۔ آئین کہتا ہے کہ ٹیکس کا نفاذ کیا جائے اس کیلئے آئینی تقاضے پورے کئے جائیں۔ یہ عوامی نمائندوں کی حکومت ہے کیا کسی ماتحت قانون کے ذریعے آئینی شقوں کی خلاف ورزی کی جاسکتی ہے۔ ہم صرف اعلامئے کے تحت اس طرح کے اقدامات کرکے آئینی تقاضوں کو ٹیسٹ کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ فنانس بل کا مقصد بھی تو واضح ہے۔ اس کے تحت ہی ٹیکس وصول کرلیا جاتا تو کیا مضائقہ تھا۔ اگر کل عوامی حکومت اپنے لاگو کردہ ٹیکس کو خود ہی واپس کرلیتی ہے تو وصول شدہ ٹیکس کیسے واپس ہوگا۔ فنانس ایکٹ کے تحت اس طرح کے ٹیکس کو تحفظ حاصل نہیں ہے کہ جس کے تحت آپ عام لوگوں کی جیبیں خالی کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ اعلامئے کے ذریعے آئینی شقوں کو کور نہیں کیا جاسکتا۔ یہ کلچر بن گیا ہے کہ دکاندار سوچے سمجھے بغیر ایسی چیزوں پر سے بھی ٹیکس کی وصولی شروع کردیتے ہیں کہ جن پر ٹیکس ہی لاگو نہیں ہوتا۔ سبزی فروش بھی جیبیں بھرتا ہے۔ عدالت کو بتایا گیا ہے کہ یہ 2007ءسے ایسا کیا جارہا تھا اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اگر یہ 1998ءسے بھی کیا جارہا تھا تو یہ غلط کام تھا اسے روکا جاتا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ انگریز نے تو یہ فارمولا تو نہیں دیا تھا ہمیں آئین میں خود ترمیم کرنی چاہئے تھی۔ اگر اٹھارہویں ترمیم ہم کرسکتے ہیں تو ہم اس کیلئے کیوں نہیں کرسکتے۔ آپ واضح کردیتے کہ یہ صرف پٹرولیم مصنوعات کیلئے ہے باقی چیزوں پر نہیں تو معاملات ٹھیک ہوجاتے۔ قیمتوںکو چیک کرنے کیلئے کوئی میکنزم موجود نہیں ہے۔ صارف 200 بوری آلو خرید کر گھر میں نہیں رکھ سکتا۔ آپ حکومت سے ہدایات لیں بصورت دیگر ہم اس کا فیصلہ کردیں گے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ حکومتیں ٹیکس کے بغیر نہیں چل سکتیں ٹیکس لیں مگر عوام پر ظلم نہ کریں اور ٹیکس کی وصولی قانون کے مطابق ہونی چاہئیں۔ منیر اے ملک نے کہا کہ 1931ءکا قانون بھی ایکٹ آف پارلیمنٹ ہے اور اسے آئینی تحفظ حاصل ہے۔ اے جی نے کہا کہ اشیائے خوردنی اور ادویات پر سیلز ٹیکس کے اضافے کا اطلاق نہیں ہوتا۔ وزارت خزانہ نے ایف بی آر کو وضاحت جاری کرنے کی ہدایت کردی ہے۔ تمام ٹیکس افسران کو سخت مانیٹرنگ کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔ اشیائے خوردنی میں پھل‘ گوشت‘ سبزیاں‘ چپاتی اور بیکری آئیٹم شامل ہیں۔ انڈا‘ دودھ‘ دالیں‘ گھی‘ بچوں کا دودھ‘ آلو پیاز اور نمک سمیت تمام اشیاءسیلز ٹیکس سے مستثنیٰ ہوں گی۔ اس دوران اے جی نے مختلف فیصلوں کے حوالے بھی دئیے جس میں 1931ءکے قانون کو تحفظ دیا گیا تھا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یہاں کاروباری شخص کو بچانے کی بات نہیں چلے گی بلکہ ریاست کے تحفظ کی بات ہوگی ہم ریاست کو اس بات کی اجازت نہیں دیں کہ وہ عام آدمی کیلئے مشکلات پیدا کرے یا اسے کسی قسم کا نقصان پہنچائے۔ ٹیکس کی وصولی میں عام آدمی کا کیا قصور ہے جس نے ٹیکس دینا ہوتا ہے وہ تو دیتا ہی نہیں اور نہ ہی اس سے کوئی ٹیکس لے سکتا ہے۔ عام آدمی کو پریشان کرنے کا سلسلہ اب بند ہونا چاہئے۔ اے جی نے کہاکہ اگر رقم واپس لی جاتی ہے تو اور جو حقدار ہے اس کا پتہ بھی نہیں چل رہا تو ایسی تمام رقم حکومت حاصل کرکے قومی خزانے میں جمع کرادے گی۔ چیف جسٹس نے کہاکہ ماتحت قانون کے تحت حکومت آئین سے ہٹ کر سیلز ٹیکس کا نفاذ نہیں کرسکتی۔ اصل قانون نے جو حدود متعین کردی ہیں ان کی خلاف ورزی نہیں کی جاسکتی۔ اگر پارلیمنٹ کہے کہ انہوں نے 16 سے 17 فیصد ٹیکس لاگو کیا ہے تو آپ 26 فیصد ٹیکس کیسے وصول کرسکتے ہیں۔ سلمان اکرم نے کہاکہ کسٹم ایکٹ کے سیکشن (ط) (2) 18 واضح ہے جس میں وفاقی حکومت کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ اشیاءاور ان کی سپلائی پر ٹیکس لاگو اور اس کی شرح میں اضافہ کرسکتی ہے تو پھر آئین کی نفی کررہے ہوں گے۔ جسٹس اعجاز نے کہاکہ 1977ءایکٹ کے تحت ٹیکس کی شرح کا فیصلہ کرنا ایکٹ آف پارلیمنٹ ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کم کرنے کی بات نہ کریں اس وقت کیس قیمت بڑھانے کا ہے اور ایسا اعلامئے کے تحت کیا گیا ہے۔ سلمان نے کہاکہ 1931ءکے تحت حکومت نوٹیفکیشن جاری کرکے ٹیکس کی شرح میں اضافہ کرسکتی ہے۔ چیف جسٹس نے سیلز ٹیکس ایکٹ کے تحت حکومت ٹیکس شرح میں اضافہ کرسکتی ہے مگر ایسا فنانس بل کے تحت ہی کیا جاتا ہے جسے پارلیمنٹ نے منظور کرنا ہے۔ 17 کی بجائے 27 فیصد شرح ٹیکس کیوں نہ ہو اپوزیشن مخالفت کررہی ہے۔ مستقبل میں ٹیکس‘ لیوی اور کسٹم ڈیوٹی بڑھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر آپ اعلامئے کے تحت ہی ٹیکس بڑھادیں تو پھر آئین کی کیا ضرورت رہ جاتی ہے۔ آپ نوآبادیاتی نظام کے تحت چل رہے ہیں۔ آئین پارلیمنٹ کا تحفظ کرتا ہے اور اگر وہ آئین کا تحفظ کرے تو پھر آخر اتنے عرصے سے جدوجہد کس لئے کی جارہی ہے۔ عدالتی فیصلے بھی ہم نے لکھ رکھی ہیں آپ جو مرضی فیصلہ پڑھ لیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اوگرا کو بھی سن لیں گے۔ سی این جی ملک میںپیدا ہوتی ہے پھر بھی مہنگی فروخت کی جاتی ہے۔ 18 کروڑ عوام کے نمائندے پارلیمنٹ میں بیٹھے ہیں اور ان کا مقصد عوام کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے یہاں تو صرف تین جج بیٹھے ہیں آپ کو تو زیادہ احساس ہونا چاہئے۔ ججز اور پارلیمنٹ دونوں عوام کے حقوق کے تحفظ کیلئے کام کررہے ہیں۔ دو دن اپ نے 2 فیصد اضافی ٹیکس وصول کرلیا اور بعد میں اسے ختم کردیا۔ ایسا کیا جانا آپ کی غلطی کا ثبوت ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عوام اپنے نمائندوںسے پوچھتے ہیں کہ اس انداز میں وہ ٹیکس کیوں وصول کررہے ہیں جس کی آئین اجازت نہیں دیتا۔ لوگوں کو آئندہ کیلئے بچایا جانا چاہئے۔ رانا شمیم نے ایف بی آر کی جانب سے بتایا کہ وصول شدہ اصل رقم کی مکمل معلومات نہیں ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ غیر ملکی قوانین کے حوالے سے ضرور بتائیں۔ سلمان اکرم نے کہا کہ وہ تمام ریکارڈ اور دلائل جمع کرادیں گے۔ منیر اے ملک نے کہا کہ بھارتی آئین میں بھی اس کی اجازت ہے۔ ان کا آرٹیکل 77 آئین میں موجود ہیں ایک آف پارلینمٹ نہیں ہے۔ آسٹریلیا میں عارضی قوانین موجود ہیں۔ چیف جسٹس نے کہاکہ اس کی تفصیلات دی جائیں۔ رانا شمیم نے کہا کہ پورے سال میں ایک فیصد ٹیکس کی وصولی سے 30 ارب روپے وصول ہوں گے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ صرف پٹرولیم نہیں تمام اشیاءکی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔ تنخواہ دار طبقے سے ان کی مشکلات بارے پوچھیں جن کا شکار کل آپ بھی ہوسکتے ہیں۔ سی این جی پر 86 پیسے ٹیکس وصول کیا گیا ہے۔ رانا شمیم نے کہاکہ پیداوار سی این جی پر 16 فیصد تھا اور سی این جی سٹیشنوں پر فراہم کرنے سے یہ شرح بڑھ کر 25 فیصد ہوجاتی ہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ 2 فیصد ٹیکس اضافی لیا گیا تھا وہ عام لوگوں پر بطور سزا لاگو کیا گیا۔ مزید سماعت جمعرات کو ہوگی۔
No comments:
Post a Comment