John Carry
شامی تنازعے پر عالمی طاقتوں کے درمیان عدم اتفاق
شام کی بگڑ تی ہوئی صورتحال ،جان کیری نے ہونیوالا پاکستان کا دورہ موخر کردیا
شامی تنازعے کے حل کیلئے مجوزہ جینوا امن کانفرنس کے انعقاد پراصولی اتفاق
اسلام آباد/واشنگٹن/پیرس(انٹرنیشنل نیوز)برطانوی علاقے شمالی آئر لینڈ میں ترقی یافتہ اقوام کے گروپ جی ایٹ کی سمٹ کا آغاز ہو گیا ہے۔ اجلاس میں شامی تنازعے کے علاوہ آزاد تجارت، ٹیکس چوری اور جاپان کے مرکزی بینک کے کردار پر فوکس کیا جائے گا۔جی ایٹ کی دو روزہ سمٹ کے پہلے دن ترقی یافتہ اقوام کے لیڈران شامی تنازعے کے حوالے سے کسی ایک نکتے پر متفق نہیں ہو سکے۔ مجموعی طور پر اس مناسبت سے اختلافی فضا چھائی رہی۔ روسی صدر نے امریکا، فرانس اور برطانیہ کی جانب سے شامی صدر کی عسکری و سیاسی امداد و حمایت ختم کرنے کی تجویز کو واضح طور پر مسترد کر دیا۔ امریکا کی خواہش ہے کہ شام میں نو فلائی زون قائم کیا جائےاور اس مناسبت سے ماسکو نے عندیہ دیا ہے کہ ایسی کسی بھی تجویز کو سلامتی کونسل میں ویٹو کر دیا جائے گا۔جرمن چانسلر انگیلا میرکل اور برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ مبصرین کے مطابق انتالیسویں جی ایٹ سمٹ میں شامی تنازعے پر گفتگو کرنے کے علاوہ لیڈران تین دوسرے موضوعات پر بھی بات چیت کریں گے اور ان میں آزاد تجارت کا معاملہ انتہائی اہم خیال کیا گیا ہے۔ برطانوی وزیراعظم اور سربراہی اجلاس کے میزبان ڈیوڈ کیمرون نے آزاد تجارت کو رواں سمٹ کے اہم ترین موضوعات میں شمار کیا ہے۔ اس کے علاوہ ترقی یافتہ ملکوں میں ٹیکس چوری کا مسئلہ خاصا گرم ہے۔ ترقی یافتہ اقوام کے لیڈروں کا خیال ہے کہ ٹیکس کی مد میں چھپائی گئی رقوم کو مختلف ممالک بازیاب کرنے کے بعد استعمال کر کے اقتصادی اہداف حاصل کر سکتے ہیں۔ اجلاس میں انٹرنیشنل کارپوریٹ ٹیکسیشن کے نظام کو مزید فعال کرنے کو بھی اہم خیال کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ جاپان کے مرکزی بینک کے چند اہم فیصلوں پر بھی غور کیا جائے گا۔ موجودہ جاپانی وزیراعظم شینزو آبے کی حکومت کی اقتصادی پالیسیوں کے زیرتحت جاپانی سینٹرل بینک نے کرنسی یِن کی قدر میں کمی کے علاوہ افراط زر کو فروغ دینے والے فیصلے کیے ہیں۔شامی تنازعے میں حلب شہر میں بہت زیادہ تہاہی پھیلی پیر کے روز جی ایٹ کے اجلاس کے پہلو میں روسی اور امریکی صدور کی ملاقات کو بھی خاصی اہمیت حاصل رہی۔ اس ملاقات کے بعد دونوں لیڈروں نے شام کے تنازعے کے حوالے سے اعتراف کیا کہ اس معاملے پر اختلافات موجود ہیں۔ دونوں لیڈروں نے شام کے تنازعے کے حل کے لیے مجوزہ جنیوا امن کانفرنس کے انعقاد پر اصولی اتفاق کر رکھا ہے۔ ملاقات میں تجارت اور انسداد دہشت گردی کے حوالے سے دونوں ملکوں میں تعاون کے فروغ پر بھی گفتگو کی گئی۔ ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام پر جاری بات چیت میں بھی روس اور امریکا شامل ہیں اور حال ہی میں ایران کے صدارتی الیکشن کے حوالے سے محتاط انداز میں ردعمل کا اظہار کیا گیا۔ روسی صدر ولادی میر پوٹن کے ساتھ برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون اور فرانسیسی صدر فرانسوا اولانڈ نے بھی ملاقاتیں کی شمالی آئرلینڈ میں جی ایٹ کے اجلاس کے دوران روسی اور امریکی صدور کی ملاقات کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے میں بتایا گیا کہ امریکی صدر اوباما دو روزہ دورے پر رواں برس کے مہینے ستمبر میں روس کا دورہ کریں گے۔ دریں اثناء امریکہ کے سیکریٹری خارجہ جان کیری نے اگلے ہفتے ہونے والا اپنا پاکستان کا دورہ مو ¿خر کر دیا ‘دورہ موخر کرنے کی وجہ شام کی بگڑتی صورتحال ہے۔ منگل کو نجی ٹی وی کے مطابق امریکی سیکرٹری خارجہ جان کیری نے اگلے ہفتے ہونے و الا اپنا دورہ پاکستان موخر کر دیا ہے اور جان کیری نے اتوار کو ٹیلی فون پروزیراعظم نواز شریف سے ہونے والی بات چیت کے دوران انہیں بھی اپنے دورہ کو موخر کرنے بارے آگاہ کر دیا تھا۔ ذرائع کے مطابق جان کیری نے وزیر اعظم نواز شریف کو بتایا تھا کہ فی الحال ان کے پاکستان نہ آنے کی وجہ شام کی مزید بگڑتی ہوئی صورتحال ہے۔واضح رہے کہ امریکہ کے صدر بارک اوباما نے گزشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ ان کی حکومت شامی باغیوں کو ہتھیار فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔امریکہ شام میں نو فلائی زون لاگو کرنے کے منصوبہ پر بھی غور کر رہا ہے۔امریکہ کی جانب سے باغیوں کو ہتھیاروں کی فراہمی کے اعلان نے روس کو امریکہ اور برطانیہ کے سامنے لا کھڑا کیا ہے اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے اس فیصلے پر کڑی تنقید کی ہے۔جان کیری کے دورہ پاکستان کے حوالے سے تاریخوں کا باقاعدہ اعلان پہلے بھی نہیں کیا گیا تھا اور دفتر خارجہ کے ترجمان نے جمعرات کو پریس بریفنگ کے دوران بتایا تھا کہ امریکی وزیر خارجہ ‘رواں مہینے کے چوتھے ہفتے’ پاکستان آسکتے ہیں۔خیال رہے کہ گیارہ مئی کے عام انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ ن کی کامیابی کے فوراً بعد کیری نے نواز شریف کو ٹیلی فون پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ پاکستان میں نئی حکومت کے قیام کے بعد اسلام اباد انا چاہتے ہیں۔انہوں نے وزیر اعظم نواز شریف سے گفتگو میں ایک مرتبہ پھر اس عزم کو دہرایا تھا کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو بہت زیادہ اہمیت دیتا ہے اور وہ نئی حکومت کی مکمل حمایت کرے گا۔دریں اثناءامریکی صدر باراک اوباما نے کہا ہے کہ شام کیخلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی یا نو فلائی زون کا قیام مسئلے کا حل نہیں جبکہ دوسری جانب امریکہ نے شام کے پناہ گزینوں کیلئے مزید 300 ملین ڈالر کے امدادی پیکیج کا اعلان کیا ہے۔ ایک امریکی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے امریکی صدر باراک اوباما نے کہا ہے کہ شامی فضائیہ کو حملوں سے روکنے کیلئے شام پر بم پھینکنا ہوں گے جس سے ناصرف مزید ہلاکتیں ہوسکتی ہیں بلکہ کیمیائی ہتھیاروں کے نشانہ بننے پر تباہی پھیل سکتی ہے۔اردن اور شام کی کشیدہ صورتحال کے تناظر میں امریکہ اور اردن کی افواج کے درمیان مشترکہ جنگی مشقیں جاری جبکہ امریکہ اردن کو پیٹریاٹ میزائل بھی فراہم کرے گا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اردن کے علاقے الکوائیرہ میں سالانہ جنگی مشقوں کے دوران اردن اور امریکی فوجیوں نے مشترکہ طور پر مختلف قسم کے دھماکہ خیز مواد کو ناکارہ بنانے کا عملی مظاہرہ کیا۔ ایگل لائن نامی مشترکہ فوجی مشقوں میں امریکی فوج اردن کی سکیورٹی فورسز کو دہشت گردی اور قومی سلامتی کے خطرات سے نمٹنے کیلئے تربیت دے رہی ہے۔ 19 ممالک کی مشترکہ فوجی مشقوں کا مقصد فوجی تعلقات کو فروغ دینا ہے جبکہ دوسری جانب شام اور اردن کے درمیان مخدوش صورتحال کے بعد امریکہ نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ مشقوں کے فوراً بعد ایف 16 طیارے اور پیٹریاٹ میزائل اردن کو دے گا۔ واضح رہے کہ امریکہ اور اردن کے درمیان مشترکہ فوجی مشقیں 20 جون تک جاری رہیں گی۔فرانس کے سابق وزیر خارجہ رولینڈ ڈوماس نے انکشاف کیا ہے کہ شام کو اسرائیل مخالف ہونے کی سزا دی جارہی ہے اور اس کیخلاف جنگ کی منصوبہ بندی عرب سپرنگ سے دو سال پہلے کرلی گئی تھی۔ ایک انٹرویو میں فرانس کے سابق وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ شام کیخلاف جنگ تیار شدہ اور پہلے سے سوچی سمجھی منصوبہ بندی کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں جنگ اسلئے اہم ہے کہ شامی حکومت اسرائیل کیخلاف ہے اسی لئے ہر چیز خطے میں پہنچادی گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ انہیں یہ بات اسرائیل کے سابق وزیراعظم نے بتائی تھی جن کا کہنا تھا کہ ہم اپنے پڑوسیوں کیساتھ رہنا چاہتے ہیں لیکن جو اس کیساتھ بہتر طریقے سے نہیں رہے گا اسے تباہ کردیا جائے گا۔
No comments:
Post a Comment