Tuesday, 18 June 2013

Balochistan Politics

سیاسی بحران کا خدشہ،بلوچستان کابینہ تشکیل کا معاملہ کھٹائی میں پڑگیا

 مشاور ت کا سلسلہ جاری ہے بہت جلد کابینہ کی تشکیل پر اتفاق ہوجائے گا،حکومتی ذرائع،سب کو خوش رکھنے والا فارمولہ رخصت ہوگیا

 کوئٹہ (مقامی رپورٹر)بلوچستان میں کابینہ کی تشکیل کا معاملہ کھٹائی میں پڑگیا محکمہ خزانہ نے مالی سال 2013-14ء کا بجٹ 20جون کو پیش کرنے کا نوٹیفکشن جاری کردیا کابینہ کی تشکیل پر تاحال اتفاق رائے نہ ہونے پر وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی جانب سے بجٹ پیش کئے جانے کا امکان ہے حکومتی اتحاد اور حزب اختلاف کی جماعتوں کے مابین انڈر اسٹینڈنگ کے باعث وزیراعلیٰ اسپیکر ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کے مرحلے تو طے ہوگئے البتہ کابینہ کی تشکیل میں مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ 18 ویں آئینی ترمیم کے تحت کابینہ کا حجم کم ہوگیا ہے جبکہ وزراء بننے کے خواہش مندوں کی تعداد زیادہ ہے اور اتحادی جماعتوں کے مابین مختلف فارمولوں پر مشاورت کا سلسلہ جاری ہے ذرائع نے ”آن لائن“ کو بتایا کہ مسلم لیگ (ن) ، پشتونخوا ملی عوامی اور نیشنل پارٹی کے مابین مشاورت جاری ہے وزارت اعلیٰ نیشنل پارٹی اورگورنر شپ پشتونخوا میپ کے پاس جانے کے بعد ن لیگ زیادہ وزارتوں کی خواہاں ہے اس لئے مختلف فارمولوں پر غور جاری ہے تاہم کوئی اتفقا نہیں ہوسکا ادھر محکمہ خزانہ نے مالی سال 2013-14ءکا بجٹ 20جون کو پیش کرنے کا نوٹیفکشن جاری کردیا کابینہ کی تشکیل نہ ہو نے کی وجہ سے یہ امکان ظاہر کیا جارہا ہے وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ خود بجٹ پیش کریں گے تاہم حکومتی ذرائع کا کہنا ہے مشاور ت کا سلسلہ جاری ہے بہت جلد کابینہ کی تشکیل پر اتفاق ہوجائے گا اور وزیرخزانہ پیش کریں گے ممکن ہے کہ محکمہ خزانہ کی جانب سے مقررہ تاریخ میں توثیق کی جائے ذرائع کے مطابق آئینی ترمیم کے بعد وزراءاور مشیروں کی تعداد محدود ہے گزشتہ دور حکومت میں وزیر اعلیٰ کے معاونین خصوصی اور مشیر مقرر کرکے انہیں کسی نہ کسی طرح راضی کیا گیا لیکن اب کی بار سب کو خوش رکھنے والا فارمولہ سابقہ حکومت کے ساتھ رخصت ہوگیا نو منتخب حکومت اپنی کابینہ میں زیادہ لوگوں پارٹی کے مابین مشاورت جاری ہے وزارت اعلیٰ نیشنل پارٹی اورگورنر شپ پشتونخوا میپ کے پاس جانے کے بعد ن لیگ زیادہ وزارتوں کی خواہاں ہے اس لئے مختلف فارمولوں پر غور جاری ہے تاہم کوئی اتفقا نہیں ہوسکا ادھر محکمہ خزانہ نے مالی سال 2013-14ءکا بجٹ 20جون کو پیش کرنے کا نوٹیفکشن جاری کردیا کابینہ کی تشکیل نہ ہو نے کی وجہ سے یہ امکان ظاہر کیا جارہا ہے وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ خود بجٹ پیش کریں گے تاہم حکومتی ذرائع کا کہنا ہے مشاور ت کا سلسلہ جاری ہے بہت جلد کابینہ کی تشکیل پر اتفاق ہوجائے گا اور وزیرخزانہ پیش کریں گے ممکن ہے کہ محکمہ خزانہ کی جانب سے مقررہ تاریخ میں توثیق کی جائے ذرائع کے مطابق آئینی ترمیم کے بعد وزراءاور مشیروں کی تعداد محدود ہے گزشتہ دور حکومت میں وزیر اعلیٰ کے معاونین خصوصی اور مشیر مقرر کرکے انہیں کسی نہ کسی طرح راضی کیا گیا لیکن اب کی بار سب کو خوش رکھنے والا فارمولہ سابقہ حکومت کے ساتھ رخصت ہوگیا نو منتخب حکومت اپنی کابینہ میں زیادہ لوگوں کو”اکاموڈیٹ“ نہیں کرسکے گی شارٹ لسٹ کرنے میں بہت سے لوگ ناراض بھی ہوسکتے ہیںاور نومنتخب حکومت بلوچستان کے موجودہ سیاسی حالات میں ارکان اسمبلی کی ناراضی کی متحمل نہیں ہوسکتی۔

No comments:

Post a Comment