International News,Brazil
برازیل میںبھی مظاہرے پھوٹ پڑے،حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ
برازیل میں بھی ہزاروں افراد نے کرپشن پولیس گری کیخلاف احتجاجی شرکت کی،ریلیاں
برازیلیا(انٹرنیشنل رپورٹ) برازیل میں حکومت کی جانب سے کرپشن‘ پولیس گردی اور ناقص عوامی سہولیات کیخلاف احتجاجی مظاہروں میں شدت آگئی ہیں۔ رائٹرز کے مطابق گذشتہ روز برازیل کے مختلف شہروں میں تقریباً دو لاکھ سے زائد افراد نے حکومت کیخلاف احتجاجی مارچ میں حصہ لیا۔ خبر رساں ادارے کے مطابق برازیل کے بڑے شہروں ساﺅ پالو‘ ریوڈی جنیرو‘ بیلو ہوریزونٹے اور برازیلیا میں احتجاجی مظاہرین نے شاہراہوں اور گلیوں پر قبضہ کرکے ٹریفک بلاک کردی۔ ادارے کے مطابق زیادہ تر احتجاجی مظاہرے پرامن رہے مگر ریوڈی جنیرو میں چند احتجاجی مظاہرین نے پولیس پر پتھراﺅ کیا جبکہ ریاستی اسمبلی کے شیشوں کو پتھر مار کر توڑ دیا۔ مظاہرین نے اسمبلی کی عمارت کے پارکنگ ایریا میں کھڑی ایک گاڑی کو آگ لگادی۔ ذرائع کے مطبق احتجاجی مظاہرے دوسرے شہروں تک پھیل رہے ہیں۔ مظاہرین حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کررہے ہیں۔دریں اثناءبرازیل کے جن شہروں میں پیر کے روز مظاہرے ہوئے، ا ±ن میں دارالحکومت برازیلیا، ساو ¿ پاو ¿لو، ریو ڈی جینیرو اور بیلو ریزانٹ (Belo Horizonte) شامل ہیں۔ یہ مظاہرین حکومتی اداروں میں پائی جانے والی کرپشن، پبلک ٹرانسپورٹ کی خراب صورت حال، پولیس تشدد اور پبلک سروسز کے کمزور نظام کے خلاف صدائے احتجاج بلند کر رہے ہیں۔ اس خصوصی احتجاجی مظاہرے کی پلاننگ سوشل میڈیا پر جاری مہم کے ذریعے کی گئی تھی۔ ابھی تک یہ مظاہرے پرامن رہ رہے ہیں۔مظاہرین کے سامنے برازیلی پولیس کی برازیل میں مختلف سماجی مسائل کے تناظر میں احتجاجی ریلیوں کا آغاز رواں مہینے کے اوائل سے بڑے شہر ساو ¿ پاو ¿لو میں ہوا۔ ان مظاہروں کی بنیادی وجہ پبلک ٹرانسپورٹ یعنی بسوں اور ٹرام سروس کے کرایوں میں اضافہ خیال کیا گیا ہے۔ کرایوں میں اضافہ بظاہر کوئی بہت زیادہ نہیں تھا لیکن یہ حکومتی فیصلہ عوام کو پسند نہیں آیا۔ ساو ¿ پاو ¿لو میں شروع ہونے والے مظاہروں کے آغاز پر متوسط طبقے کے افراد نے شرکت شروع کی تھی۔اب ان مظاہروں کے دائرے کا وسیع ہو گیا ہے۔ ان پرامن مظاہروں میں شرکائ ڈھول اور مختلف موسیقی کے آلات کو بجا کر حکومتی پالیسیوں کے خلاف اپنے غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔دریں اثناء برازیل میں فٹ بال کے مہنگے ٹکٹوں کیخلاف شروع ہونے والے مظاہروں میں شدت آگئی ہے‘ ہزاروں مظاہرین پارلیمنٹ کی عمارت کے باہر نعرے لگاتے رہے۔ مہنگی ٹکٹوں کیخلاف ہونے والے مظاہرے میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ مظاہرین کے مطالبات میں پبلک سروسز کی کمی‘ پولیس کا تشدد اور حکومتی کرپشن شامل ہے۔ گذشتہ رات ساﺅپالو‘ برازیلیا اور ریوڈی جنیرو میں ہزاروں افراد نے مظاہرے کئے اور سڑکیں بلاک کردیں۔ برازیلیا میں ہزاروں افراد پارلیمنٹ کی عمارت پر چڑھ گئے اور ساﺅ پالو میں صدارتی محل کو بھی نہ چھوڑا۔ ان مظاہروں کی برازیل کی تاریخ میں سب سے بڑے مظاہرے قرار دیا جارہا ہے۔۔
No comments:
Post a Comment