Wednesday, 19 June 2013

Mehmood Qureshi

سینٹ اجلاس ،اپوزیشن کا پٹرولیم قیمتوں میں اضافے کیخلاف احتجاجا واک آؤٹ

بلوچستان میں امن وامان کیلئے صوبائی و وفاقی حکومتوں کی حقیقی معنوں میں تدارک کرنا ہوگا،شاہ محمود قریشی

اسلام آباد(مقامی رپورٹر)سینیٹ اجلاس میں اپوزیشن نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک ہفتہ میں دو بار اضافے کیخلاف احتجاجاً واک آﺅٹ کیا جبکہ پیپلز پارٹی کے میاں رضا ربانی نے کہا کہ حکومت آتے ہی رات کو نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا اور صبح واپس لے لیا گیا، ایف بی آر اپنی من مانی کر رہا ہے ،حکومت ملک یا رجواڑہ چلا رہی ہے ۔ منگل کو سینیٹ میں نکتہ اعتراض پر پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر رضا ربانی نے کہا کہ عجیب سی صورتحال پیدا ہو گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پہلی بات یہ کہ اسمبلی سے بجٹ کی منظوری سے قبل جی ایس ٹی لگایا جا سکتا ہے یا نہیں۔ اس کے بعد حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق ایک نیا نوٹس جاری کر دیا ہے جس کی وجہ سے پیٹرول مہنگا کردیا گیا ۔ ایک ہفتہ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں دوسری بار اضافہ کر دیا گیا ہے انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ میں ایف بی آر نے بیان دیا ہے کہ ہم نے نوٹیفیکیشن واپس لے لیا ہے یہ کیا مذاق ہے تین فیصد پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور نوٹس واپس لینے یا نہ لینے کیخلاف ٹوکن واک آﺅٹ کرتے ہیں جس کے بعد اپوزیشن واک آﺅٹ کر گئی ۔ قائد ایوان راجہ ظفر الحق نے کہا کہ پہلے دن بھی اس معاملے پر بات ہو چکی ہے سپریم کورٹ میں معاملہ آیا ہے ہمیں سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عمل کرنا چاہئے۔ سینیٹ صرف سفارشات دے سکتا ہے حتمی فیصلہ قومی اسمبلی نے کرنا ہے مسلم لیگ (ن) کے مشاہداللہ اپوزیشن کو ایوان میں واپس لے کر آئے ۔ پیپلز پارٹی کے سینیٹر سعید غنی نے کہا کہ حکومت نے غیر رجسٹرڈ پمپس پر دو فیصد فالتو جی ایس ٹی لگائی ہے اس کو عوام کی جیب نکالا جائے گا اس سے مہنگائی میں اضافہ ہو گا۔ سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ ہم نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اوررات کو نوٹیفیکیشن جاری کر کے صبح واپس لینے کے حوالے سے حکومت رویئے کیخلاف واک آﺅٹ کیا۔دریں اثناء پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئر مین وقومی اسمبلی میں ڈپٹی پارلیمانی لیڈر مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ تحریک انصاف نے خیبرپختونخوا میں اپنے منشور اور ترجیحات کے عین مطابق بجٹ پیش کیا ، خیبرپختونخوا میں شفاف احتساب کا ایسا نظام لارہے ہیں جس میں بڑے چھوٹے کی کوئی تمیز نہیں ہوگی ، وفاقی بجٹ پہ حکومتی اراکین بھی غیر مطمئن ہیں ، ڈرون حملوں کو رکوانے کے لئے حکومت کو ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے ، بلوچستان میں امن وامان کےلئے صوبائی وفاقی حکومتوں کو حقیقی معنوں میں تدراک کرنا ہوگا ۔ وہ منگل کو یہاں پارلیمنٹ ہاﺅس کے باہر صحافیوں سے بات چیت کررہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ اور زیارت میں دہشت گردی کے پیش آنے والے واقعات انتہائی افسوسناک ہیں جس پر حکومتوں کو چاہیے کہ وہ بلوچستان میں بدامنی پھیلانے والوں کے خلاف صحیح معنوں میں ایکشن لیں ۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف نے اپنے منشور اور ترجیحات کے عین مطابق بجٹ پیش کیا ہے جس میں تعلیم ، صحت ، توانائی ، زراعت سمیت دیگر اہم شعبوں پر خصوصی توجہ دی گئی ہے ۔


No comments:

Post a Comment